Wednesday, May 21, 2014

Skin Whitening slogans and impact on social system in Pakistan





I was watching a skin whitening advertisement on television of Pakistan and it said “ Ab gora ho ga Pakistan”(now the whole nation of Pakistan will have white skin) . To me in our social system, this slogans/advertisements have created a lot of problems and social barriers. 

Like in another advertisement where family of a boy is going to propose a girl for their son and the son says “ Bhabhi Larki goori/white honi chahhiay” (Aunti, I want to marry the girl having fair skin) . To me this statement to do skin whitening and its promotion is against the teaching of Prophet Muhammad (SAW). We are creating an imbalance in our society where dark skin will be looked inferior and many of girls would be unmarried because of longterm impact of these issues.

I will give here the reference of the "Last address of the Prophet Muhammad (SAW)" and will not explain it further and leave for you. Decision is yours.


“All mankind is from Adam and Eve.  An Arab has no superiority over a non-Arab, nor does a non-Arab have any superiority over an Arab; a white (white or fair skin) has no superiority over a black (dark skin), nor does a black (dark skin) have any superiority over a white (white skin or fair skin); [none have superiority over another] except by piety and good action.  Learn that every Muslim is a brother to every Muslim and that the Muslims constitute one brotherhood".



(These pictures were taken from internet and doesnt mean to target or harm any industry or any person. It is just to highlight the problem.)



J.U. Rehman
(Curiosity of nature leads you to discovery and satisfaction. JURehman)    

Wednesday, February 12, 2014

Taalib, Taalib (طالب طالب )

I am highlighting this issue in Urdu so that WEST may not laugh at us.
 
طالب طالب

یہ وہ آ وا ز ہے جو روزانہ صبح  کو ہما ری گلی میں سے آتی ہے تقریباً آٹھ سے ١٢ سال کی عمر کہ دو بچے اپنے سر پر ایک ایک برتن اٹھا ے گھر گھر جا کر آواز دیتے ہیں  طالب -طالب- اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں-ہوتا کیا ہے. سخت سردی میں یہ بچے یہ کام کرتے ہیں اور روزانہ چا ھے گرمی ہو.  اتنی سخت سردی میں ان کہ پاس کوئی صحیح سویٹر بھی نہین ہوتا اور کبھی کبھی تو یہ بھی دیکھا ہے کہ ان کہ پاس جوتے بھی نہیں ہوتے، اور اگر کبھی ہو تو وہ بھی ٹوٹی ہوئی یا بہت بڑی اور مختلف پیر. یہ گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور لوگ اس برتن میں سالن ڈال دیتے ہیں، اور دوسرے برتن میں روٹی . ہر کسی گھر میں مختلف کھانا  پکا ہوتا ہے اور صبح  کو تو سب کو پتا ہے کہ تازہ کھانا نہیں پکا ہوتا یہ پھچلی شام کا ہوتا ہے. یہ مختلف قسم کہ کھانے ایک ہی برتن میں جمع  ہوتے ہیں اور یہ بچے پھر اپنی مسجد میں جاتے ہیں جہاں یہ پڑھتے ہیں اور رہتے ہیں. یہ مکس پرانا کھا نا پھر یہ بچے  کھاتے ہیں. مجھے افسوس ہوتا ہے کہ مولوی کا کھانا ایک گھر سے بلکل تازہ آتا ہے.  میری ماں ہمیشہ ان بچوں کو صبح  ناشتہ کرواتی ہیں اور اگر جوتی یا سویٹر نہ ہو تو وہ بھی دے دیتی ہیں، پر جو بچہ  ہمارے گھر آتا ہے کھانا لینے وہ ناشتہ کرتا ہے، کیوں کہ ہماری یہ تربیت ہے کہ
 تم میں سے اس وقت کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے  لیے بھی وہ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے کرتا ہے
میری عمر اب ٣٣ سال ہو چکی ہے میں یہ دیکھ کر روتا ہوں پر ان ٣٣ سالوں میں مولوی نہیں بدلا
یہی مولوی ١٢ ربیع ال اول کو مسجد سجاتے ہیں اور روڈ پر مختلف نمونے بنا ے جاتے ہیں کعبہ اور مسجد  نبوی کہ اور  روڈ بند کر دی جاتی ہے مگر ان کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ان بچوں کو کپڑے دے دیں. جتنے پیسے یہ ان چیزوں پر لگاتے ہیں اتنے  پیسوں میں اگر کسی لڑکی کی شادی کروا دیں١٢ ربیع ال اول کو تو یا کسی کو کوئی روزگار کروا دیں ؟
      
میرا سوال ان لوگوں یا مولویوں سے ہے جو خود تو صاف کھانا کھاتے ہیں اور یہ بچے مکس اور پرانا کھانا، سوکھی روٹی.

یہ کونسا اسلام کی پیروی کر رہے ہیں. ہم ان کو نہیں مانتے اور پتا نہیں ان کی کسی بات کی پروی بھی کرنی چاہئیے یا  نہیں. 
میں تو نہیں کرتا
J.U. Rehman
(Curiosity of nature leads you to discovery and satisfaction. JURehman)